ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ٹوپی پہننے اور داڑھی رکھنے کی وجہ سے ان کے بیٹے پر کیا گیا حملہ، کشمیری طالب علم کے والدنے کہا،مذہب کی بنیادپرنفرت نہیں چل سکتی،سرکارنوٹس لے

ٹوپی پہننے اور داڑھی رکھنے کی وجہ سے ان کے بیٹے پر کیا گیا حملہ، کشمیری طالب علم کے والدنے کہا،مذہب کی بنیادپرنفرت نہیں چل سکتی،سرکارنوٹس لے

Sun, 04 Feb 2018 19:28:10    S.O. News Service

سری نگر4فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)ہریانہ کے مہندر گڑھ سینٹرل یونیورسٹی میں دوکشمیر طالب علموں پر حملہ کی جانچ جاری ہے۔اس سلسلہ میں پولیس تین افرادکوگرفتار کرچکی ہے ۔ اس درمیان متاثر ایک طالب علم کے والد نے الزام لگایاہے کہ ٹوپی پہننے اور داڑھی رکھنے کی وجہ سے ان کے بیٹے پرحملہ کیاگیا ۔ ساتھ ہی ساتھ متاثرطالب علم کے والد نے اپنے بیٹے کی مدد کرنے پر کچھ ہندو لڑکوں کی تعریف بھی کی ۔خیال رہے کہ جمعہ کو ہریانہ سینٹرل یونیورٹی میں زیر تعلیم امجد اورآفتاب پر مبینہ طورپر 10سے 15لوگوں کے ایک گروپ نے حملہ کردیا ، جس سے ان کے چہرے ، ہاتھ اور پیروں میں چوٹیں آئی ہیں ۔ متاثرہ طالب علموں کا کہنا ہے کہ ان پر صرف اس لیے حملہ ہوا ، کیونکہ وہ کشمیری تھے ۔متاثرطالب علم آفتاب کے والدعبد القیوم نے کہاہے کہ وہاں کوئی سیکورٹی نہیں ہے ۔جب بائیک سوار لوگوں نے میرے بیٹے پر حملہ کیا ، اس وقت وہ جمعہ کی نماز ادا کرکے لوٹ رہا تھا ، اس نے ٹوپی پہن رکھی تھی۔عبد القیوم نے اپنے بیٹے کیلئے سیکورٹی کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ میرا بیٹا ایک مذہبی لڑکا ہے ، وہ نماز ادا کرنا نہیں چھوڑسکتا ، لیکن میں نے اسے داڑھی منڈوا لینے کا مشورہ دیا ہے ۔عبد القیوم نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہریونیورسٹی میں جموں وکشمیرکے طلبہ ہیں ، اگر انہیں مذہب کی بنیاد پر دیکھا جائے گا تو یہ کام نہیں کر پائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دیگر ریاستوں کے طلبہ بھی جموں وکشمیر میں زیر تعلیم ہیں ، ان کے ساتھ ایسے واقعات پیش نہیں آتے ہیں ۔عبد القیوم نے جموں و کشمیر سرکارسے اس معاملہ میں ضروری قدم اٹھانے کا بھی مطالبہ کیا۔
 


Share: